ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کنداپور میں حجابی طالبات کو کالج گیٹ پر روکنے والے پرنسپل کو کانگریسی حکومت سے ملا ایوارڈ    

کنداپور میں حجابی طالبات کو کالج گیٹ پر روکنے والے پرنسپل کو کانگریسی حکومت سے ملا ایوارڈ    

Wed, 04 Sep 2024 17:03:51    S.O. News Service

منگلورو،  4 / ستمبر (ایس او نیوز) گزشتہ مرتبہ بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کے دوران جب کالجوں میں حجاب پر پابندی کا مسئلہ سامنے آیا تھا، اُس وقت کنداپور کے ایک کالج میں جس پرنسپل نے خود ہی کالج کا مین گیٹ بند کرکے حجابی مسلم طالبات کو اندر آنے سے روکا تھا اور ان کا تعلیمی سفر روکنے کی کوشش کی تھی اسے موجودہ کانگریسی قیادت والی ریاستی حکومت نے 'بہترین پرنسپل ایوارڈ' سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
    
موصولہ رپورٹ کے مطابق امسال 5 ستمبر کو 'ٹیچرس ڈے' کے موقع پر ریاستی حکومت کی طرف سے بہترین ٹیچرس ایوارڈ دینے کے لئے جن آٹھ پروفیسرس اور دو پرنسپلس کو منتخب کیا ہے ان میں کنداپور کی سرکاری پی یو کالج کے پرنسپل بی جی رام کرشنا کا نام بھی شامل ہے ۔ یہ وہی پرنسپل ہے جس کا ویڈیو کلپ بہت زیادہ وائرل ہوا تھا جہاں وہ خود کالج گیٹ پر کھڑے ہو کر مسلم حجابی طالبات کی راہ روک رہا ہے اور انتہائی سختی کے ساتھ انہیں گیٹ کے قریب آنے سے منع کر رہا ہے ۔ 
    
تقریباً ایک ہفتے تک کالج گیٹ کے باہر کھڑے ہو کر اندر داخلے کے لئے منت  سماجت والی مسلم طالبات کو حق تعلیم سے محروم کرنے والے بی جے پی کی سنگھی ذہنیت کے مالک ایسے شخص کو کانگریسی حکومت کی طرف سے 'بہترین پرنسپل' ایوارڈ سے نوازنے کی خبر یقیناً غیر متوقع سچائی ہے ۔ کچھ ماہرین تعلیم ، طلبہ کے والدین اور سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ بی جے ہیگڑے کو بی جے پی کے اقتدار کے دوران فرقہ وارانہ پالیسی پر عمل در آمد کرنے  کے لئے موجودہ کانگریسی حکومت کی طرف سے نوازا جا رہا ہے ۔ 
    
مذکورہ پرنسپل کے اس رویے کی وجہ سے کالج میں جو ماحول بنا اس پس منظر میں 160 سے زیادہ مسلم لڑکیاں تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہوئی تھیں، جبکہ سنگھ پریوار کے جھانسے میں آ کر حجاب کے خلاف زعفرانی شالیں اوڑھ کر کالج میں آنے والے پسماندہ طبقے کے 36 طلبہ امتحان میں ناکام ہوئے  تھے ۔ 
    
کنداپور سرکاری کالج کے اس پرنسپال پر الزام ہے کہ اس نے کالج میں اے بی وی پی کی سرگرمیاں جاری رکھنے اور سنگھی ایجنڈا پورا کرنے کے لئے غیر قانونی طور پر کرن پجاری نامی سنگھی شخص کو اعزازی لیکچرار کے عہدے پر تعینات کر رکھا ہے ۔ 
    
کانگریسی حکومت کی طرف سے ایسے متنازعہ فیہ شخص کو بہترین پرنسپل کا ایوارڈ دئے جانے کے  معاملے پر رد عمل  ظاہر کرتے ہوئے ماہر تعلیم شریپاد بھٹ نے کہا :" کالج میں عبوری طورپر لیکچرار رہنے والے اے بی وی پی کے کارکن کرن پجاری کے ساتھ مل کر اسی پرنسپل نے دو سال قبل کنداپور سرکاری پی یو کالج میں بھائی چارگی اور ہم آہنگی کا ماحول برباد کر دیا تھا ۔ اب بہترین پرنسپل ایوارڈ  خود ہی تلاش کرتے ہوئے اسی رام کرشنا بی جی تک آ پہنچا ہے ۔ یہ کانگریسی حکومت کا انداز ہے ۔ کارپوریٹ اداروں کی طرف سے  سرکاری اسکولوں کو گود لینے کی راہیں ہموار کرنے میں مصروف وزیر تعلیم مدھو بنگارپّا سے اس بارے میں کچھ پوچھنا ہی بیکار ہے ۔"


Share: